چین سیچوان تبت ریلوے پراجیکٹ پربھارت کا واویلا‘بیجنگ چاہے تو برہماپتراکا رخ موڑکر مودی سرکار کی جڑیں ہلا سکتا ہے. رپورٹ

بھارت چینی سرحد کے ساتھ تین ریلولے لائنزسمیت 60سے 70 منصوبوں پر کام کررہا ہے‘ مودی سرکار اشتعال انگیزکاروائیاں جاری رکھتی ہے تو اب اسے ”اپنے وسائل“ خرچ کرنے پڑیں گے.

چین سیچوان تبت ریلوے پراجیکٹ پربھارت کا واویلا‘بیجنگ چاہے تو برہماپتراکا رخ موڑکر مودی سرکار کی جڑیں ہلا سکتا ہے. رپورٹ

چین سیچوان تبت ریلوے پراجیکٹ پر بڑی تیزی سے کام جاری رکھے ہوئے ہے جو اروناچل پردیش کے ساتھ بھارتی کی سرحد کے کافی قریب ہے. چین کے صدرشی جن پنگ کا کہنا ہے کہ یہ ریلوے لائن سرحدی علاقوں میں استحکام کے لیے بہت اہم ہے اس پورے منصوبے کی لاگت 47.8 ارب ڈالر ہے اس ریلوے لائن سے تبت کے دارالحکومت سیچوان کے دارالحکومت چینگڈو کا سفر 13 گھنٹے کا ہو جائے گا جو ابھی 48 گھنٹے کا ہے.

لنجھی کا علاقہ اروناچل پردیش کے نزدیک ہے چین اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کا حصہ سمجھتا ہے جبکہ بھارت اسے مسترد کرتا ہے اس سلسلہ میں دلی کی جواہر لال یونیورسٹی میں چینی امور کی پروفیسر الکا اچاریہ کا کہنا ہے کہ یہ کوئی نئی چیز نہیں جس کے بارے میں بھارت کو پہلے نہیں معلوم تھا. انہوں نے کہا دونوں ملکوں کے درمیان سرحد طے نہیں ہے اور دونوں ممالک اپنے آپ کو مضبوط بنانے کے لیے انفراسٹرکچر پر کام کر رہے ہیں لہٰذا اس کی وجہ سے کشیدگی بھی بڑھی ہے بھارت پہلے ہی یہ سب جانتا ہے اور کہا جا سکتا ہے کہ اس کے جواب میں بھارت بھی سرحد کے ساتھ ساتھ اپنے بنیادی ڈھانچے پر کام کر رہا ہے مگر وہ چین کے سرحد ی علاقوں میں منصوبوں پر تو ہمیشہ اعتراض کرتا آیا ہے مگر اپنے منصوبوں کو اس نے جاری رکھا ہے.

گزشتہ7/8 سالوں میں دونوں ملکوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ منصوبے شروع کرنے کے معاملے میں شدت آئی ہے لیکن چین کا انفراسٹرکچر بھارت سے کہیں زیادہ، بہتر اور مہنگا ہے انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس سٹڈیز اینڈ انیلیسیس کے پروفیسر فونچوک استبدان کا کہنا ہے کہ جب بھی چین بنیادی ڈھانچے کو فروغ دیتا ہے تو اس میں اس کا فوجی تناظر بھی ہوتا ہے. انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی ڈھانچہ بنا کر چین میزائل بھارت کی سرحد تک لا سکتا ہے پھر انھیں جوہری ہتھیاروں کی ضرورت نہیں ہے وہ میزائل سے بھی نشانہ لگا سکتے ہیں چین کا یہ نمونہ میں نے قزاقستان، کرغزستان جیسی جگہوں پر دیکھا ہے.

انہوں نے کہا کہ چینی پہلے ریلوے کی تعمیر کرتے ہیں اور اس سے ان کی میزائل کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ بھارت اور پاکستان براہ راست جوہری بموں کے بارے میں بات کرتے ہیں چین کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کی بات ہی نہیں کرتا وہ بس چاروں سمت سے گھیرتا ہے. ایڈیٹر ”اردوپوائنٹ“میاں محمد ندیم کا کہنا ہے کہ پروفیسر فونچوک استبدان بھول رہے ہیں کہ دنیا بھر میں یہی رجحان ہے حتی کہ اگر ہم برطانوی استعماری دور میں ہندوستان میں تعمیر ہونے والی ریلولے لائن‘پل اور سڑکوں کے نقشے دیکھیں تو وہ بھی سول نہیں بلکہ فوجی منصوبے نظرآتے ہیں ہندوستان بھر بچھی ریلولے لائن برطانوی راج میں فوج کی کی نقل و حرکت یا برطانوی تجارت کے لیے قائم کی گئی تھی .

انہوں نے کہا کہ بھارت واویلا کررہا ہے کہ چین دریائے برہماپترکا رخ موڑنا چاہتا ہے جو بھارت کے لیے پانی کا ایک بہت بڑا وسیلہ ہے چین کی جانب سے ابھی تک ایسی کوئی کوشش دیکھنے میں نہیں آئی مگر بھارت کا یہ ریکارڈ رہا ہے کہ اس نے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان اور نیپال سمیت اپنے کئی ہمسایہ ممالک کو پانی فراہم کرنے والے دریاﺅں پر بند باندھے یا ان کے رخ موڑ دیئے.

میاں ندیم نے چین کے موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی آزاد اور خودمختار ملک کی طرح چین کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کے اندر جس طرح کا چاہے انفراسٹرکچرتعمیر کرئے چاہے وہ سول مقاصد کے لیے ہویا فوجی مقاصد کے لیے انہوں نے کہا نئی دہلی کی پریشانی یہ ہے کہ منصوبے کی تکمیل کے بعدعلاقے میں کو فوجی بالادستی حاصل ہوجائے گی پہلے اس علاقے تک رسائی کے لیے چینی فوج کو 36 گھنٹے لگتے تھے اب نہ صرف9/10 گھنٹوں میں یہاں پہنچا جا سکتا ہے بلکہ بھاری فوجی سازوسامان پہنچانا بھی انتہائی آسان ہوگا.

انہوں نے کہا کہ بھارت کھلے عام چین دشمن فوجی اتحاد بنائے‘مشترکہ جنگی مشقوں کا انعقاد کرئے کرئے اور چین پر سرحدوں کے اندر رہتے ہوئے تعمیرات کرنے پر بھی اعتراضات اٹھائے یہ کوئی سفارتی یا فوجی معاملہ نہیں بلکہ نئی دہلی کے اندر کا خوف ہے باہر آرہا ہے. انہوں نے کہا کہ چین نے 1962میں بھارتی اشتعال انگیزی کے بعد صوبہ سیچوان ملحقہ مشرقی تبت میں سڑکوں کا جال بچھانا شروع کیا تھا چین جانتا تھا کہ اس علاقے تک پہنچنا خطرناک تھایہ ایک پتھریلہ علاقہ ہے بیجنگ کو بھارتی عزائم کا پتہ چل گیا تھا لہذا مستقبل کی پیش بندی کے طور پر اس نے علاقے میں سڑکیں بنانا شروع کردی تھیں انہوں نے کہا کہ 1962کے چین اور آج کے چین میں بڑا فرق ہے آج چین کے پاس دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی اور لامحدودوسائل ہیں لہذا وہ ان کا استعمال کرکے آج ریل کو ان علاقوں تک لارہا ہے.

میاں ندیم نے کہا کہ چین کے 13ویں پانچ سالہ منصوبے میں لداخ اور ہمالیہ کے سرحدی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ترجیح تھی جس کے لیے چین نے 20 ارب ڈالر کا بجٹ مختص کیا تھا صدر شی جن پنگ جس ریلوے منصوبے کے بارے میں بات کر رہے ہیں اس کا بجٹ مختلف ہے. انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے منصوبوں کا ذکر نہیں کرتا لداخ کے دربوک سے دولت بیگ اولڈی تک 255 کلومیٹر طویل سٹریٹجک سڑک کی تعمیر ہو رہی ہے یہ متنازع علاقہ ہے جس پر چین نے ردعمل بھی ظاہر کیا اور اس کے بعد سے ہی دونوں کے درمیان کشیدگی ہے اور اس کا کوئی حل نہیں نکل رہا ہے اسی طرح بھارت ان علاقوں میں جن کی سرحدیں ابھی طے ہونا باقی ہیں ان علاقوں سمیت چینی سرحد کے قریب نئے ہوائی اڈے اور سڑکیں بھی بنا رہا ہے حال ہی میں لداخ میں اٹل سرنگ کا افتتاح بھی کیا گیا تھا اس وقت سرحدی علاقوں میں بھارت کے 60سے 70 پر کام چل رہا ہے ان منصوبوں میں تین ریلوے لائن پراجیکٹ بھی ہیں جس کے سروے 2020 تک مکمل کیے جانے تھے جو ابھی تک نہیں ہو سکے ہیں.

پروفیسر استدبان کا خیال ہے کہ بھارت کی چین کے ساتھ سرحد ی علاقوں میں اشتعال انگیزی امریکی صدارتی انتخابات کے لیے صدر ٹرمپ چاہتے تھے کہ وہ امریکی عوام کو چین کا ”ہوا“بنا کر ڈارائیں مگر امریکی عوام نے اسے رد کردیا اس لیے ہو سکتا ہے کہ اب یہ کشیدگی کم ہو جائے ورنہ بھارت کو اب سرحدی علاقوں میں ”اپنے وسائل“ خرچ کرنے پڑیں گے. ایڈیٹر”اردوپوائنٹ“میاں محمد ندیم بھی متفق ہیں کہ امریکی صدر کہ شہ پر بھارت نے چین کے ساتھ سرحدی علاقوں میں اشتعال انگیزکاروائیاں شروع کی تھیں اور ممکنہ طور پر ان پر اٹھنے والے اخراجات بھی امریکا نے اداکیئے تھے کیونکہ ان دنوں امریکا کے مین اسٹریم میڈیا میں ان سرحدی جھڑپوں کو ایسے کوریج دی گئی جیسے یہ جھڑپیں بھارت اور چین کے درمیان نہیں بلکہ امریکا اور چین کے درمیان میں ہورہی تھیں.

انہوں نے کہا کہ اس سارے معاملے میں بھارت گھاٹے میں رہا ہے کیونکہ امریکی کمینیوں کو ایک ارب انسانوں کی مارکیٹ تقریبا مفت میں مل گئی اور بھارت میں چھوٹا کاروباری طبقہ پس کر رہ گیا ‘بھارتی اجناس کی اپنے ملک میں ہی ڈیمانڈ نہ ہونے کے برابر رہ گئی کیونکہ امریکی پرچون فروش کمپنیاں دنیا میں سستا ترین ریٹ لیتی ہیں اور ان کا سپلائرانہیں دنیا بھر میں جہاں وہ چاہیں انہیں مال سپلائی کرنے کا پابند ہوتا ہے مثال کے طور پر امریکی سٹور کی چین کو بھارت میں مقامی منڈی سے ٹماٹر بیس روپے کلو جبکہ کسی قریبی ملک میں بیٹھا اس کا سپلائیراسے دس روپے کلو میں ٹماٹر سپلائی کرسکتا ہے تو وہ مقامی منڈی کو چھوڑ کر اپنے دس روپے والے سپلائیرسے مال منگوائیں گے انہوں نے کہا کہ ان کمپنیوں کے غریب ملکوں کی حکومتوں کے ساتھ ہونے والے خفیہ معاہدے کبھی سامنے نہیں آتے مگر ان کی قیمیت عام شہریوں کو ادا کرنا پڑی ہے.

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0