یہی وقت ہے کہ یورپی یونین مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہو،فرانس کے صدر کی پکار

یورپ ایک حقیقت ہے جسے بچانے کے لیے ہمیں سر جوڑ کر بیٹھنا اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو گا

یہی وقت ہے کہ یورپی یونین مسلمانوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہو،فرانس کے صدر کی پکار

مشہور ضرب المثال ہے کہ جو بو گے وہی کاٹو گے،اسی  کے  مصداق فرانس نے جس قسم کی آگ لگانے کی کوشش کی اب اس کی تپش خود ہی محسوس کر رہا ہے۔ 13نومبر کو فرانس پیرس اٹیک کی پانچویں برسی منانے جہاں رہا ہے جہاں ایک میوزک ہال اور کیفے میں دہشت گردی کے واقعے میں 150لوگ موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔

گزشتہ دنوں آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں دہشت گردی کے واقعہ نے ہر طرف ہلچل مچا دی ہے اور یورپی ممالک سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔فرانس جیسے آزادی اظہار کے نام پر لبرل ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ساری دنیا کے سامنے ہے۔فرانس نے اسلام اور مسلم دشمنی میں ہر حد پار کر کے رکھ دی ہوئی ہے۔یہ وہی آگ ہے جو اس نے خود لگائی ا ور اپنی ہی لگائی آگ میں اب خود جل بھی رہا ہے اور بلبلا بھی رہا ہے۔

نہ وہ آزادی اظہار رائے کے نام پر نبی آخرالزماں ﷺ کے کارٹون سرکاری پشت پناہی میں بناتااور نہ ہی اس قسم کی شدت پسندی کا سامنا کرتا۔فرانس نے مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹے واقعات کو بھی بڑھا چڑھا کر رنگ دیاور مسلمانوں کے خلاف سخت اقدامات کیے۔تاہم فرانس اور آسٹریا میں حالیہ دہشت گردی کے واقعہ کے بعد فرانسیسی صدر میکرون بھاگا پھر رہا ہے اور اس نے یورپی ممالک کے سربراہان کی میٹنگ کال کی جس میں اسلاموفوبیا سے متعلق بات کی کہ یورپی حقیقت یہ ہے کہ اسے دہشت گردی کا سامنا ہے۔

ہم سب کو مل کر اس شدت پسندی کا مقابلہ کرنا ہو گا۔اس کے لیے ہمیں اپنی سرحدوں پر باڑ لگانے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی بھی کھڑا کرنا ہو گی اور ملک میں انٹرنیٹ پر جاری سرگرمیوں پر بھی نظر رکھنا ہو گا۔میکرون کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی بارڈر اوپن پالیسی کے ساتھ ویزہ پالیسی کی طرف بھی نگاہ کرنا ہو گی تاکہ شدت پسندی جیسے مزید واقعات ہونے سے بچ سکیں۔

What's Your Reaction?

like
0
dislike
0
love
0
funny
0
angry
0
sad
0
wow
0